اردوئے معلیٰ

جی جائے گا یہ آپ کا بیمار کسی طَور

ہو پائے اگر آپ کا دیدار کسی طَور

 

رکھ دینا مرے زیرِ کفن اے مرے لوگو

مِل جائے اگر خاکِ رہِ یار کسی طَور

 

کیا خوب نظارہ ہو ترے شہرِ کرم کا

جا پہنچے اگر مجھ سا بھی نادار کسی طَور

 

ہونٹوں سے کبھی چوموں، کبھی سر پہ سجاؤں

ہو سامنے وہ نعلِ کرم بار کسی طَور

 

چپ چاپ ہوں بیٹھا مَیں پسِ حرف و معانی

بن پڑتی نہیں صورتِ اظہار کسی طَور

 

جا پہنچوں ترے گنبدِ خضریٰ کے جلو میں

ہٹ جائے اگر خواب کی دیوار کسی طَور

 

مَیں گھومتا رہتا ہوں مضافاتِ کرم میں

دیکھوں مَیں ترے ہونے کے آثار کسی طَور

 

ترتیبِ سفر ہے نہ کوئی رختِ سفر ہے

مقصودؔ بلائیں مجھے سرکار کسی طَور

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات