’’حاسدانِ شاہِ دیں کو دیجیے اخترؔ جواب‘‘

 

’’حاسدانِ شاہِ دیں کو دیجیے اخترؔ جواب‘‘

اُن کی سیرت کا ورق روشن ہے مثلِ ماہ تاب

حشر کے دن دیکھ لینا کیسی ہے شانِ جمال

’’درحقیقت مصطفی پیارے ہیں سلطانِ جمال‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رات بیدار ہے کونین کی آنکھیں روشن
جانِ گلزارِ مصطفائی تم ہو
محمدؐ با خدا پیشِ نظر ہیں
آپؐ ہیں خیر البشر خیر الوریٰ میرے نبیؐ
یہ عطائے خدا ہے نعمت ہے
محبت ہے مجھے رب العلیٰ سے
کسی کو مال و دولت سے نوازا
بس اسی کو ہے ثنائے مصطفی لکھنے کا حق
’’خاک ہو جائیں عدوٗ جل کر مگر ہم تو رضاؔ ‘‘
’’روز و شب مرقدِ اقدس کا جو نگراں ہو گا‘‘