اردوئے معلیٰ

Search

حبیب سیدِ کونین ہونے کی تمنا ہے

بس اس قیمت پہ ہر اِک چیز کھونے کی تمنا ہے

 

برا کیا اگر اس دکھ میں یہ آنکھیں بجھ ہی جائیں

اب ان کی دید تک پیہم ہی رونے کی تمنا ہے

 

میں ان کے پیار کے جھنڈے لگا دوں ایک اک دل میں

سبھی کے دل میں اپنا دل سمونے کی تمنا ہے

 

ہیں دیوانے تو دیوانے ! اِ نھیں اشکوں کی کیا قلت

کہ فرزانوں کو اس مینہ میں بھگونے کی تمنا ہے

 

ہے کیسا عشق ، وہ غم میں ہمارے خون میں ڈوبیں

ہمیں لیکن یہ غم اشکوں سے دھونے کی تمنا ہے

 

وہ اُن کے نام کی حُرمت ! ادھر یہ سر سلامت بھی

جگر کے خوں سے اب یہ داغ دھونے کی تمنا ہے

 

کسی کی ہے تمنا ہوں زمیں پر تخت سونے کے

کسی کی مدفن ِ طیبہ میں سونے کی تمنا ہے

 

اگرنہ جام ِ کوثر تک ہی اپنے چشم ولب پہنچے

عبث پھر بارِ جسم وجان ڈھونے کی تمنا ہے !

 

خیال وخواب سے ، نظروں سے تصویریں ہٹا دوگر

نگہ میں جلوہ جاناں سمونے کی تمنا ہے

 

سلاموں سے ، درودوں سے معطر ہو مراجیون

بچی سانسوں میں یہ غنچے پرونے کی تمنا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ