حرفِ مدحت جو مری عرضِ ہنر میں چمکا

حرفِ مدحت جو مری عرضِ ہنر میں چمکا

میرا ہر حرف زمانے کی نظر میں چمکا

 

دے گیا کتنے شرف ایک سیہ پتھر کو

ایک بوسہ جو ترے لب سے حجر میں چمکا

 

وجہِ شادابیٔ عالم ہے یہ رنگِ اخضر

ہر زمانے میں ہر اک برگِ شجر میں چمکا

 

واسطہ ان کا دیا صلِ علٰی پڑھتے ہوئے

میرا ہر حرفِ دعا بابِ اثر میں چمکا

 

کیسے ہو شہرِ مدینہ کی بلندی کا بیاں

جس کے ذرے کا بدن روئے قمر میں چمکا

 

خواب خواہش کے حسیں طاق پہ رکھا ہی رہا

لمعۂ یاد مرے شام و سحر میں چمکا

 

ٹوٹتے حوصلے اشفاق جواں ہونے لگے

گنبدِ سبز مری راہ گزر میں چمکا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات