حرف کے مالک و مختار نے مسرور کیا

حرف کے مالک و مختار نے مسرور کیا

مدحتِ سرورِ کونین پہ مامور کیا

 

ناز ہو مجھ کو مقدر پہ شہا ،آپ نے گر

کاسۂ چشم کو دیدار سے معمور کیا

 

چوم کر ہم نے تصور میں سنہری جالی

صدمۂ فرقتِ سرکار کو کافور کیا

 

اب کوئی منظرِ پر کیف لبھاتا ہی نہیں

گنبدِ سبز نے ایسا مجھے مسحور کیا

 

میں بھی ہوں محورِ کون و مکاں کا شیدائی

مجھ کو تقدیر نے یونہی نہیں مغرور کیا

 

مجھ کو اللہ نے مدحت کی اجازت دے کر

مجھ سے گمنام کو سنسار میں مشہور کیا

 

چند لمحے جو مواجہ پہ حضوری کے ملے

بارشِ نور نے اشفاق شرابور کیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اے جسم بے قرار ثنائے رسول سے
پیشوائے انبیاء ہے آمنہ کی گود میں
مظہرِ قدرت باری صورت
نظر میں جلووں کی جھلملاہٹ پکارتی ہے
جو ضم ہو عشقِ نبی میں ،ہے بیکراں دریا
گویا بڑی عطا ہے طلبگار کےلئے
کلی کلی کی زباں پر یہ نام کس کا ہے؟
گھٹا فیضان کی امڈی ہوئی ہے
کتابِ مدحت میں شاہِ خوباں کی چاہتوں کے گلاب لکھ دوں
دل نشیں ہیں ترے خال و خد یانبی

اشتہارات