اردوئے معلیٰ

Search

حرمِ سیدِ ابرار تک آ پہنچے ہیں

سرزمینِ فلک آثار تک آ پہنچے ہیں

 

ہم سیہ کار بھی انوار تک آ پہنچے ہیں

ہم گنہ کار بھی دربار تک آ پہنچے ہیں

 

رقص کرتے ہوئے سامانِ سفر باندھا تھا

وجد کرتے ہوئے سرکار تک آ پہنچے ہیں

 

اللہ اللہ یہ ہم سوختہ جانوں کا نصیب

کہ ترے سایہء دیوار تک آ پہنچے ہیں

 

جو فسانے رہے برسوں مرے دل میں مستور

میرے خواجہ! لبِ اظہار تک آ پہنچے ہیں

 

اِس سے آگے کوئی جادہ ہے نہ منزل نہ مقام

کہ ترے کوچہ و بازار تک آ پہنچے ہیں

 

اب مرے اشکوں کی قیمت کوئی مجھ سے پوچھے

یہ گہر ، شاہ کے دربار تک آ پہنچے ہیں

 

اُن کی قسمت پہ سلاطیں کو بھی رشک آتا ہے

جو گدا آپ کے دربار تک آ پہنچے ہیں

 

فائزِ جلوہ و فردوس بداماں ہیں وہ لوگ

جو مدینے کے چمن زار تک آ پہنچے ہیں

 

اُن کی رحمت مجھے دربار میں لے آئی ہے

جلوے خود طالبِ دیدار تک آ پہنچے ہیں

 

میرے جذباتِ عقیدت بھی ہیں اُن کا فیضان

جو مرے نطقِ گہر بار تک آ پہنچے ہیں

 

درِ محبوب پہ یہ آہیں ، یہ اشکوں کا ہجوم

قافلے قافلہ سالار تک آ پہنچے ہیں

 

للہ الحمد ملا اِذنِ حضوری مظہر

للہ الحمد کہ سرکار تک آ پہنچے ہیں​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ