اردوئے معلیٰ

حسرتِ دل ہے مدینے کی بہاریں دیکھوں

اور پھر نور میں ڈوبی ہوئی راتیں دیکھوں

 

نقشہء خلدِ بریں ہے وہ مدینے کی گلی

آپ کی راہگزر ، آپ کی راہیں دیکھوں

 

چھائی رہتی ہیں جو طیبہ کے سبب عالم پر

آپ کے روضے پہ رحمت کی گھٹائیں دیکھوں

 

آپ کے عشق میں بے تاب ہوا جاتا ہوں

آپ کچھ کیجئے پُرکیف فضائیں دیکھوں

 

خوابِ طیبہ سے سجی آپ کے دیوانوں کی

آپ کو ڈھونڈتی پھرتی ہیں جو آنکھیں دیکھوں

 

اپنے قدموں سے لگا لیجیئے میرے آقا

اوج پاتی ہوئی ہر دل کی صدائیں دیکھوں

 

آپ کے جلوئہ یٰسیں کے سوالی ہیں سبھی

آپ جو سب کو حسیں جلوے دکھائیں دیکھوں

 

بخشوانے کے لیے اپنے گنہ گاروں کو

جام جب آپ شفاعت کا پلائیں دیکھوں

 

موت کا وقت ہو طیبہ ہو رضاؔ سا عاصی

اور میں کلمہ پڑھوں آپ پڑھائیں دیکھوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات