اردوئے معلیٰ

حسرتِ دیدۂ نم، قلبِ تپاں سے آگے

حسرتِ دیدۂ نم، قلبِ تپاں سے آگے

مدحتِ سیدِ عالَم ہے ُگماں سے آگے

 

وقت کے تیز بدلتے ہُوئے منظَر بے ُخود

آپ ہی قبلِ عیاں، آپ نہاں سے آگے

 

خامہ و نطق سے ممکن نہیں مدحت تیری

ہو عطا نعت کوئی حرف و بیاں سے آگے

 

گرچہ ماں باپ سے، بچوں سے محبت ہے مجھے

بخدا آپ مگر سارے جہاں سے آگے

 

وہ ترا ’’قرنی‘​‘​ لقب عصرِ ہمایوں آقا

تری نسبت سے ہُوا عہد و زماں سے آگے

 

ویسے تو جتنے ہیں منظر، ہیں اُنہیں کے منظر

شبِ معراج تھے وہ حدِ نشاں سے آگے

 

وہ کہ مقصودِؔ دو عالَم ہیں بِلا شک و شبہ

اُن کی تطبیق عبث، کس سے، کہاں سے آگے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ