اردوئے معلیٰ

Search

حسرت نکل رہی ہے سرکار کے نگر میں

قسمت بدل رہی ہے سرکار کے نگر میں

 

توحید و حق کی پھیلی دنیا میں روشنی جو

قندیل جل رہی ہے سرکار کے نگر میں

 

آ جائے موت ہم کو اے کاش اب یہیں پر

خواہش مچل رہی ہے سرکار کے نگر میں

 

ممنون ہر سحر ہے کہ ان کے حضور میں ہے

ہر شام ڈھل رہی ہے سرکار کے نگر میں

 

وہ آنکھ خشک تھی جو مدت سے میری یارو

موتی ابل رہی ہے سرکار کے نگر میں

 

دیکھا فداؔ یہ ہم نے شیطان کی بھی فطرت

ہاتھوں کو مل رہی ہے سرکار کے نگر میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ