اردوئے معلیٰ

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے

التفاتِ شافع روزِ جزا درکار ہے

 

اور اس کو چاہیے کیا اور کیا درکار ہے

وہ نبی کا ہو رہے جس کو خدا درکار ہے

 

جو مجھے لے جائے ان کے آستانِ پاک تک

وہ تمنا، وہ طلب، وہ مدعا درکار ہے

 

دل تو ہے آباد محبوبِ خدا کی یاد سے

میری آنکھوں کو جمالِ مصطفیٰ درکار ہے

 

وہ جہاں چاہے رہے جس کو نہیں عشقِ نبی

وہ اِدھر آئے جسے لطفِ خدا درکار ہے

 

جو نبی کا ہے ہم اس کے بندہ بے دام ہیں

ہر نفس ہم کو بزرگوں کی دعا درکار ہے

 

میں مدینے میں ابد کی نیند سو جاؤں نصیر

رہنے بسنے کو مجھے تھوڑی سی جا درکار ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ