اردوئے معلیٰ

Search

حضور شاہِ مدینہ جو اشک بار چلے

وہ اپنے دوش سے بارِ گنہ اُتار چلے

 

حضور آپ کے در سے جو اشک بار چلے

سند نجات کی لے کر گناہ گار چلے

 

خزاں رسیدہ گلستانِ عصر پر آقا

حیاتِ نو کے لیے بادِ کوئے یار چلے

 

سروں پہ خاکِ مدینہ دِلوں میں عشقِ رسول

متاعِ کون و مکاں لے کے خاکسار چلے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ