حضور نعت کا مصرع کوئی عطا کردیں

 

حضور نعت کا مصرع کوئی عطا کر دیں

مطافِ فکر و سخن اور خوشنما کر دیں

 

نگاہِ شوق تڑپتی ہے روئے انور کو

دوائے کربِ دروں شاہِ انبیا کر دیں

 

ہمیشہ رہتا ہوں مصروف جن کی مدحت میں

عجب نہیں وہ مجھے اجر خود سے آ کر دیں

 

ہر ایک بارہویں تاریخ ہوں تمھارے حضور

نصیب ایسا مرا شاہِ دوسرا کر دیں

 

کوئی بھی خواہشِ نام و نسب نہیں آقا

برائے تاج مجھے نقشِ پا عطا کر دیں

 

میں کب سے بیٹھا ہوا ہوں ردائے نعت لیے

حضور بھیک عطا بہرِ مرتضیٰ کر دیں

 

زہے نصیب کہ پروانۂ رہائی ترا

بروزِ حشر وہ منظرؔ تجھے بلا کر دیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ