اردوئے معلیٰ

حقیقت میں وہی ذکرِ خدا ہے

کہ جس کے ساتھ یادِ مصطفےٰ ہے

 

مدینے جا نہیں سکتا تو کیا غم

مرے دل میں مدینہ بس رہا ہے

 

نظر جس پہ شہِ کونین کی ہو

دیا وہ کب کسی سے بجھ سکا ہے

 

نگاہوں میں ستارے جھلملائے

نبی کا تذکرہ جب چھڑ گیا ہے

 

مٹائے گا اسے کیسے زمانہ

نبی کے نام پر جو مر مٹا ہے

 

وہ رستے سجدہ گاہِ دل بنے ہیں

نبی کا نقش پا جن پر پڑا ہے

 

کبھی اپنی محبت کم نہ کرنا

یہ میری آسؔ ، میرا مدعا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات