اردوئے معلیٰ

حُبِ احمد کا صلہ بولتا ہے

حُبِ احمد کا صلہ بولتا ہے

اب یہ محرومِ نوا بولتا ہے

 

قبر میں پوچھ یہی ہے کہ کوئی

آپ کے بارے میں کیا بولتا ہے

 

سب صحابہؓ ہمہ تن گوش ہوئے

سرور ہر دوسرا بولتا ہے

 

اس فصاحت پہ فصاحت قربان

وہ زمانے سے جُدا بولتا ہے

 

میرے محبوب قدم رکھتے ہیں

راستہ صلِّ علیٰ بولتا ہے

 

اُذنُ مِنّی کی صدا آتی ہے

کون ہے اور یہ کیا بولتا ہے

 

حرفِ یوحٰی نے بتایا اخترؔ

ان کے ہونٹوں سے خدا بولتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ