حکم خالق کا سُنا ، سر کو جھکا کر آیا

حکم خالق کا سُنا ، سر کو جھکا کر آیا

اپنی بخشش کے لیے آپ کے در پر آیا

 

روشنی پھیل گئی خاک سے افلاک تلک

جب تصور میں ترا چہرۂ انور آیا

 

صحنِ گلشن میں یہ خوشبو کبھی پہلے تو نہ تھی

میں نے پہچان لیا ، میرا گُلِ تر آیا

 

ذہنِ آوارہ مجھے اور طرف لے کے چلا

پھر بھی ہونٹوں پہ ترا نام برابر آیا

 

فردِ عصیاں کی سیاہی کو مٹانے کے لیے

موج در موج وہ رحمت کا سمندر آیا

 

عابدو! تم نے تو اعمال کا پھل پایا ہے

مجھ سے عاصی کے لیے شافعِ محشر آیا

 

خشک ہونٹوں نے پڑھا آخری لمحے میں درود

ہاتھ میں جام لیے ساقیٔ کوثر آیا

 

مشکلیں جان گئیں میری رسائی اخترؔ

جب مری ایک صدا پر مرا یاور آیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
مصطفیٰ خیرُ الوریٰ ہو
وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
خلد مری صرف اس کی تمنا صلی اللہ علیہ والہ وسلم
حصار نور میں ہوں گلشن طیبہ میں رہتا ہوں
اپنے بھاگ جگانے والے کیسے ہوں گے
اس خالق کونین کی مرضی بھی ادھر ہے
نعتِ سرکار مرے دور کی پہچان بھی ہے
ظلمت کدے میں نور کا دھارا رسول ہیں