اردوئے معلیٰ

Search

خاص ہے مجھ کو تعلق شبر و شبیر سے

کیوں نہ چمکے دل مرا ایمان کی تنویر سے

 

آخرش نعرہ لگایا ، یا حسین امداد کن

بات بنتی ہی نہ تھی میری کسی تدبیر سے

 

رکھ دیا شبیر کی یادوں کے قدموں میں جو سر

سرفرازی پائی تاج عزت و توقیر سے

 

دل کی کلیاں کھل اٹھیں ابر بہاراں آگیا

کربلا کی بات نکلی خواب کی تعبیر سے

 

ذکر سے شبیر کے دل کا بڑھایا حوصلہ

کی لبوں نے گفتگو پھر نعرۂ تکبیر سے

 

مانگ لو اخلاص کی خیرات مومن ہو اگر

اہلبیت پاک کے ایثارِ عالم گیر سے

 

حوصلہ کس کو ملا ہے تجھ سا اے زہرا کے لعل

کس نے ملت کی حفاظت کی ہے اس تدبیر سے

 

مرحبا اے آل پیغمبر تمہارے خون کا

ہے بڑا مضبوط رشتہ دین کی تعمیر سے

 

بر سر نیزہ جو دکھلائی حسین پاک نے

دین کی پہچان ہوتی ہے اسی تصویر سے

 

عاجز و ماندہ تھکا ہارا قلم کیا لکھ سکے

رتبۂ آل نبی ہے ماورا تحریر سے

 

وقت پر آشوب ہے اے نورؔ دل کو باندھ لو

الفت آلِ شہ کونین کی زنجیر سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ