خاطی ہوں سیاہ رُو ہوں خطاکار ہوں میں

خاطی ہوں سیاہ رُو ہوں خطاکار ہوں میں

جو کچھ ہو حسنؔ سب کا سزاوار ہوں میں

پر اُس کے کرم پر ہے بھروسہ بھاری

اللہ ہے شاہد کہ گنہگار ہوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حالِ دل پر جو عنایت کی نظر ہو جائے
اس درجہ ہے ضعف جاں گزائے اسلام
حبیبِ کبریاؐ سایہ کُناں ہو
مرے پیشِ نظر طیبہ نگر ہے
اُن کی خوشبو دل و نظر کے لیے
محمدؐ آپ کا ہے نامِ نامی
اُخوت اور چاہت آپؐ ہی کے دم قدم سے ہے
اشرفی نسبتی جو ہوا خیر سے
’’وہ گل ہیں لب ہائے نازک اُن کے، ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے‘‘
’’اے سحابِ کرم اک بوٗند کرم کی پڑ جائے‘‘