اردوئے معلیٰ

خالق عطا ہو صدقہ محمد کے نام کا

 

خالق عطا ہو صدقہ محمد کے نام کا
پالوں کسی طرح سے میں رتبہ غلام کا

 

کر لے قبول سیّدِ کونین کے طفیل
گرچہ سلیقہ مجھ کو نہیں ہے سلام کا

 

آنسو رواں ہیں آنکھ سے، ہچکی بندھی ہوئی
"چھیڑا ہے کس نے ذکر مدینے کی شام کا”

 

دنیا سمجھ رہی تھی کسی کام کا نہیں
نعتِ نبی نے مجھ کو بنایا ہے کام کا

 

اےدل! نگاہیں کھول، محمد کا شہر ہے
اس کا ہر اک مقام ہے صد احترام کا

 

طاعت نبی کی عین اطاعت خدا کی ہے
حاصل خلاصہ ہے یہ خدا کے کلام کا

 

خواہش ہے میرے سانس کی ٹوٹے یہ جب لڑی
لب پر درود و ذکر ہو خیرالانام کا

 

دستِ نبی سے بخش دے روزِ جزا مجھے
طالب خدایا ! تم سے ہوں کوثر کے جام کا

 

روضہ نبی کا سامنے، لب پر درود ہو
دل کا ہے یہ خیال سبب ابتسام کا

 

احمد خدا سے مانگوں میں احمد ہی کے طفیل
یا رب قبول کر یہ کہا فکرِ خام کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ