اردوئے معلیٰ

Search

 

خالق کے شاہکار ہیں خلقت کے تاجدار

ان فخرِ انبیاء کے ہیں الطاف بے شمار

 

جلوہ فگن وہ مظہر نورِ خدا ہوا

صبحِ ازل سے جس کا تھا عالم کو انتظار

 

ہر سمت جلوہ باد ہے رحمت حضور کی

ہو وادی مجسم کہ عرب کا ہو ریگ راز

 

رفعت نگوں ہے آپ کے قدموں کے سامنے

عظمت ہے گردِ راہ کے ذرّات پر نثار

 

حکمت فریضہ ہے کلامِ حضور پر

عِفت رسولِ پاک پہ کرتی ہے انحصار

 

لطف وعطا ورحم وسخا، علمِ وعفود خیر

صدیق وصفا وحُسن وحیا جرأت ووقار

 

احسان وصبرو سعی ویقیں، سادگی وعدل

ایسے گلوں سے مہکا ہے سیرت کا شاخسار

 

جس راہ سے ہوا تھا کبھی آپ کا گزر

وہ راہ چومنے کو یہ آنکھیں ہیں بے قرار

 

منظورِ بے نوا کا ہے مقصود آپ ہی

اس کو بھی کیجے نقش کف پا سے ہمکنار

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ