خامشی ، غارِ حرا ، دِل میرا

خامشی ، غارِ حرا ، دِل میرا

تیرے قدموں کی صدا دِل میرا

 

گنبدِ سبز پہ تاروں کا ہجوم

اور سرِ بابِ دُعا دِل میرا

 

صبح کے ساتھ جھکی شاخِ گلاب

شاخ کے ساتھ جھکا دِل میرا

 

لوح در لوح ترے نقشِ قدم

حرف در حرف لکھا دِل میرا

 

ڈوبتی رات کے سنّاٹے میں

اِک کتاب ،ایک دیا دِل میرا

 

روشنی طاقِ ابد سے اُتری

اور ستارے نے کہا ،دِل میرا

 

جن زمانوں میں تری خوشبو تھی

اُن زمانوں کی ہوا ،دِل میرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھے چاہیے مرے مصطفیٰ ترا پیار، پیار کے شہر کا
معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
مدحتِ مصطفیٰ گنگنانے کے بعد
یہ جُود و کرم آپؐ کا ہے، فیض و عطا ہے
ہم درِ مصطفیؐ پہ جائیں گے
مرے گھر کا جو دروازہ کھلا ہے
فراق و ہجر کا دورانیہ ہو مختصر، آقاؐ
آتی ہے رات دن اک آواز یہ حرم سے
اک نور سے مطلعِ انوار مدینہ