خامے کے لیے سہل ہو سچ کا یہ سفر بھی

خامے کے لیے سہل ہو سچ کا یہ سفر بھی

اللہ ! تری حمد کا آ جائے ہنر بھی

 

حاصل ہو مجھے درجۂ احسان تو مولا

مل جائے مری زیست کی ہر شب کو سحر بھی

 

کعبے کی تجلی جو کسی دل میں اُتر جائے

اس دل کے لیے ہیچ رہیں شمس و قمر بھی

 

دل اپنی طرف کھینچ لیا ہے تو مرے رب!

دیدے مرے ہر حرفِ تمنا کو اثر بھی

 

چھوٹے نہ کبھی ہاتھ سے دامانِ محمد ﷺ

نسبت سے اُنہی ﷺ کی مجھے حاصل ہو نظر بھی

 

احساس کی نکہت مرے لفظوں میں سما جائے

پاکیزگیٔ فکر و نظر پائے ہنر بھی!

 

بخشی ہے جو توفیقِ تجسس تو الٰہی!

سچائی کے رستے میں میسر ہو خضر بھی

 

نقشِ قدمِ سیدِ طیبہ ﷺ ہی نظر آئے

دیکھے مری بینائیِ پُر شوق، جدھر بھی

 

احسنؔ، کہ بھٹکتا ہے تحیر کی فضا میں

مل جائے الٰہی! اسے اب اپنی خبر بھی!

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جو حقِ ثنائے خدائے جہاں ہے
سننے والا ہے جو دعاؤں کا
جلوہ ہے یا نُور ہے ،یا نُور کا پردہ تیرا
خُداوندِ کون و مکاں، اللہ اللہ
میں لکھوں حمد ربِّ مصطفیٰؐ کی
پہنچ سکتے نہیں رب العلیٰ تک
خدا ہی سب کا خالق ہے خدا ہے
خدا کی حمد لازم ہے زباں سے
خدا کو میں نے جب رو رو پُکارا
وہ یکتا منفرد سب سے جُدا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے