اردوئے معلیٰ

خام ہے خامہ جو لفظِ حق نما لکھتا نہیں

سینہ قرطاس پر کرب و بلا لکھتا نہیں

 

جسم میں بے فیض لگتا ہے مجھے ایسا لہو

لوح دل پر جو غم شاہ ہدیٰ لکھتا نہیں

 

کیسا ما تھا ہے؟ یہ کہتے تھے حسین ابن علیؑ

جو کہ سجدہ گاہ پر صبر و رضا لکھتا نہیں

 

مومن آل محمد کا بھی ہے پختہ اصول

بیعتِ فاسق کسی صورت روا لکھتا نہیں

 

کون سچا کون جھوٹا چاہئے حسن یقیں

وہ منافق ہے جو اب تک فیصلہ لکھتا نہیں

 

خانہ زہرائیؑ سے غیرت کا سبق میں نے لیا

بے حیا کو صاحب شرم و حیا لکھتا نہیں

 

کوثریؔ کا عدل کے قانون پر ایمان ہے

اس لئے وہ رہزنوں کو رہنما لکھتا نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات