اردوئے معلیٰ

Search

مجھے محسوس ہوتا ہے
کہ میں خانہ بدوشوں کی
پرانی گرد میں ڈوبی ہوئی میراث کا
شاید کسی صورت میں وارث ہوں
کوئی بھی اجنبی رستہ نگاہوں سے گزر جائے
تو وہ میری نگاہوں میں اچانک گھر بنا لیتا ہے
اور میرے قدم اس راستے کی گرد سے
ملنے کو بانہیں کھول دیتے ہیں
کوئی بھی اجنبی چہرہ اچانک یوں بدلتا ہے
کہ اس چہرے سے آنکھوں کے کئی رشتے نکلتے ہیں
کوئی بھی اجنبی نغمہ سماعت سے گزرتا ہے
تو یوں لگتا ہے جیسے میں
کسی کی جگمگاتی مسکراہٹ بھول بیٹھا ہوں
کسی کی جگمگاتی مسکراہٹ
جس میں سانسوں کا حسیں آہنگ شامل تھا
مگر وہ مسکراہٹ کون سے چہرے پہ روشن تھی
ہزاروں کوششوں سے یاد اتنا بھی نہیں آتا
مجھے محسوس ہوتا ہے
کہ جن خانہ بدوشوں کے قبیلے سے مرا رشتہ ہے
ان لوگوں کی نسلوں میں بہت سے لوگ ایسے ہیں
کہ جن کی ذات کے اندر
پہاڑوں کی ڈھلانوں پر تنا خیمہ سلامت ہے
کہ جن کی آنکھ اب تک بھی
زمینوں کی کسی تقسیم کو تسلیم کرنے ہی نہیں پائی
بہت سے ہونٹ ایسے ہیں
کہ جو بہتے ہوئے آزاد پانی کے
تھرکتے معجزاتی لمس کو محسوس کرتے ہیں
یہ سارے اجنبی رستے نئے چہرے نئی آنکھیں
مرے اپنے قبیلے کی بکھرتی ٹوٹتی ہستی کے گم گشتہ عناصر ہیں
ہمارے درمیاں بس وقت کی دیوار آئی ہے
وگرنہ ہاتھ بے کل ہیں ، لبوں کے خم مکمل ہیں
فقط اک بے گھری کی دیر ہے پھر ہم مکمل ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ