اردوئے معلیٰ

خاکم بدہن کچھ ہیں سوالات بھی سر میں

اللہ! تری مصلحتِ امر و نہی پر

ہیں جس کے طفیل آج بھی اعداء ترے آزاد

کمزور کو ہے حکم، نصیحت تو انہیں کر

کمزور کی آواز دبانے کے لیے بھی

ظالم کو ستم ڈھانے کی طاقت ہے مُیسر

مسکینوں کی کشتی کو خضر کرتا ہے ناقص

پکڑا نہ کبھی اُس نے یہاں دستِ ستم گر

کُڑھتے ہیں ضعیف اور قوی رہتا ہے شاداں

یہ تجھ سے دعا کرتے ہیں، وہ ظلم برابر

دیتا ہے جو تو ڈھیل قوی قوم کو یارب!

ڈھانے میں ستم، اور بھی ہو جاتی ہے خودسر

 

دیں کیسے تسلی دلِ پُر درد کو مولا؟

ہوتا ہے تعجب جو تری مصلحتوں پر

دنیا میں جو دی تو نے شیاطین کو قوت

مخلوق پہ کیا ظلم ہی ڈھانے کے لیے ہے؟

بخشی ہے تونگر کو جو دولت مرے مولا!

کیا صرف تعیش میں اُڑانے کے لیے ہے؟

رہزن کو جو دی راہزنی کے لیے مہلت

کیا صرف، مسافر کو ستانے کے لیے ہے؟

حاکم کو حکومت کی جو بخشی گئی قوت

کیا وہ بھی رعایا کو مِٹانے کے لیے؟

اے ربِّ کریم اب تو یہ دیکھی نہیں جاتی

دُرگت جو شیاطیں نے بنا دی ہے جہاں کی

انساں کو خرد ناقص و محدود ملی ہے

کب رمز سمجھ سکتا ہے قانونِ نہاں کی؟

 

 

شکوہ : جمعہ: رمضان المبارک ۱۴۳۷ھ…مطابق: ۱۰؍جون ۲۰۱۶ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات