اردوئے معلیٰ

خاک در خاک ہوں ، ہمدوشِ ثریا کر دے

جذبِ صادق! مجھے اُس راہ کا ذرہ کر دے

 

معجزہ یہ بھی ترا جلوۂ زیبا کر دے

آںکھ کو بابِ حرم ، دل کو مدینہ کر دے

 

اک ترا نام کہ ظُلمت میں اُجالا کر دے

اک ترا ذکر کہ بیمار کو اچھا کر دے

 

گرشِ شمس و قمر راہ بدل سکتی ہے

پیکرِ نور جو ہلکا سا اشارہ کر دے

 

کون روکے گا مجھے حشر کے دن اے زاہد

میرا محبوب اگر خلد کا در وا کر دے

 

کالی کملی ہے تری ابرِ کرم کی صورت

ہر کڑی دھوپ میں اُمت پہ جو سایا کر دے

 

ساری دنیا کو بُھلا دوں ، تری نعتیں لکھوں

شوقِ مدحت مجھے اس رنگ میں تیرا کر دے

 

بس اسی عہدہ و منصب کی دعا ہے یارب

عشقِ احمد میں مجھے واحد و یکتا کر دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات