خدا کو ہے کتنا خیالِ محمد

خدا کو ہے کتنا خیالِ محمد

کیا رد نہ کوئی سوالِ محمد

 

بشر میں کہاں ہے مثالِ محمد

جمالِ خدا ہے جمالِ محمد

 

مجھے محو اس درجہ کر دے الہٰی

رہے خواب میں بھی خیالِ محمد

 

تمنا ہے یارب کہ اپنے رگ و پے

بنیں رشتہ ہائے نعالِ محمد

 

بشر کیا حقیقت سے ان کی ہو واقف

خدا ہے خبردارِ حالِ محمد

 

فقیروں کو فخرِ سلاطیں بنایا

زہے لطف و جود و نوالِ محمد

 

جو کہنا وہ کرنا ، جو کرنا وہ کہنا

نہیں مختلف حال و قالِ محمد

 

نہ ہو کیوں حدیث ان کی تفسیرِ قرآں

کہ وحیِ خدا ہے مقالِ محمد

 

ضیائے کواکب سے کیا اس کو نسبت

نہیں عارضی نورِ خالِ محمد

 

کھلے عشقِ صادق کی اصلی حقیقت

سنو داستانِ بلالِ محمد

 

خود اُمی رہے سب کو عالم بنایا

یہ ادنیٰ سا تھا اک کمالِ محمد

 

خسارے میں وہ ہے جو ان کا عدو ہے

غضب ہے خدا کا جلالِ محمد

 

لحد میں ، قیامت میں ، دنیا میں احسنؔ

من و دست و دامانِ آلِ محمد

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ