خدا کی عظمتوں کے ہیں مظاہر سمندر، کوہ و بن، صحرا بیاباں

خدا کی عظمتوں کے ہیں مظاہر سمندر، کوہ و بن، صحرا بیاباں

جمالِ کبریا کے ترجماں ہیں، ہر اِک غنچہ و گل، صحنِ گلستاں

خدا کے نور کا پرتو ہیں، خورشید و مہ و انجم فروزاں

خدائے مہرباں اُمت پہ ہو تیرا کرم، ہر دم فراواں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا
میں مسافر ہوں رہنما تُو ہے
تجھ کو روا تکبّر ، تجھ کو ہی کبریائی
میرے ہر دم میں ترے دم سے بڑا دم خم ہے
خدا کا گھر درخشاں، ضو فشاں ہے
فرشتہ تو نہیں انسان ہوں میں
بہت ارفع مقامِ زندگانی ہے
حرم کو جانے والو جا کے واں رب کو منالو
خدایا دے مجھے اپنا پتہ، پہچان دے دے
خدا کا ذکر میری زندگی ہے

اشتہارات