خدا کی یاد سینے میں سمائے

خدا کی یاد سینے میں سمائے

تصور میں، خیالوں پر وہ چھائے

نِدائے سرمدی کانوں کو بھائے

ظفرؔ پر بھی خدا وہ وقت لائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

خدا کے ذکر سے دل مطمئن ہیں، خدا کے ذکر سے مسرور جاں ہے
سبھی آفاق سے وہ ماوراء ہے
خدا نے کی عطا اپنی محبت
عبادت ہو خُدا کی اِس ادا سے
خداوندِ خلیق و مہرباں تُو
خدا کے ہی مکان و لامکاں ہیں
خدایا اِک ترا مسکین بندہ
خدا فریاد سُنتا ہے ہماری
لائقِ حمد و ثناء مالک بھی ہے معبود بھی
ہیں میرے گھر میں چھ افراد ، ساتواں دکھ ہے