خدا کے فضل سے ہر دم مرا دامن بھرا ہے

خدا کے فضل سے ہر دم مرا دامن بھرا ہے

میں نخلِ خشک ہوں گرچہ، مرا دل تو ہرا ہے

میں چلتا پھرتا لاشہ ہوں، ظفر طرفہ تماشا ہوں

حبیبِ کبریا کے در پہ، دل میرا دھرا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دُور کر دے مرے اعمال کی کالک‘ مالک!
نشاں اسی کے ہیں سب اور بے نشاں وہ ہے
مرا ستّار ہے، میرا خُدا ہے
دیکھوں جدھر بھی تیرا ہی جلوہ ہے رُو برُو
کرے انساں جو انساں سے بھلائی
خدا میرا زمانوں کا خدا ہے
جمال خانہ کعبہ دل کشا، جاذب نظر ہے
محبت ہو اگر بین الاُمم، ہو بین الاسلامی
خدا مشفق ہے مُونس مہرباں ہے
مرا غم خوار ہے، میرا خدا ہے