خدا کے فضل سے ہر دم مرا دامن بھرا ہے

خدا کے فضل سے ہر دم مرا دامن بھرا ہے

میں نخلِ خشک ہوں گرچہ، مرا دل تو ہرا ہے

میں چلتا پھرتا لاشہ ہوں، ظفر طرفہ تماشا ہوں

حبیبِ کبریا کے در پہ، دل میرا دھرا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ