اردوئے معلیٰ

Search

خزاں سے کوئی طلب نہیں ہے بہار لےکر میں کیا کروں گا

نگاہ ساقی رہے سلامت خمار لےکر میں کیا کروں گا

 

کہاں وہ حال بلال حبشی کہاں وہ عشق اویس قرنی

نبی کی فرقت میں جی رہا ہوں قرار لےکر میں کیا کروں گا

 

کوئی ہے شام وطن پہ رقصاں کوئی ہے صبح چمن پہ نازاں

بساط میری ہے خاک طیبہ نکھار لےکر میں کیا کروں گا

 

ائے مخلصو تم مجھے نہ چھیڑو یہ رسم الفت تمہیں مبارک

شہ مدینہ کا عشق لاؤ یہ پیار لےکر میں کیا کروں گا

 

کتاب اول پہ نقش قرآں وہ روئے انور پہ زلف پیچاں

قسم ہے شمس و قمر کی لیل و نہار لےکر میں کیا کروں گا

 

نگاہ منکر نکیر چمکی تو ان کا بیکل مچل کے بولا

نبی کے جلوؤں میں گم ہے شمع مزار لےکر میں کیا کروں گا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ