خزاں سے کوئی طلب نہیں ہے بہار لےکر میں کیا کروں گا

خزاں سے کوئی طلب نہیں ہے بہار لےکر میں کیا کروں گا

نگاہ ساقی رہے سلامت خمار لےکر میں کیا کروں گا

 

کہاں وہ حال بلال حبشی کہاں وہ عشق اویس قرنی

نبی کی فرقت میں جی رہا ہوں قرار لےکر میں کیا کروں گا

 

کوئی ہے شام وطن پہ رقصاں کوئی ہے صبح چمن پہ نازاں

بساط میری ہے خاک طیبہ نکھار لےکر میں کیا کروں گا

 

ائے مخلصو تم مجھے نہ چھیڑو یہ رسم الفت تمہیں مبارک

شہ مدینہ کا عشق لاؤ یہ پیار لےکر میں کیا کروں گا

 

کتاب اول پہ نقش قرآں وہ روئے انور پہ زلف پیچاں

قسم ہے شمس و قمر کی لیل و نہار لےکر میں کیا کروں گا

 

نگاہ منکر نکیر چمکی تو ان کا بیکل مچل کے بولا

نبی کے جلوؤں میں گم ہے شمع مزار لےکر میں کیا کروں گا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نگاہوں میں مدینہ آ گیا ہے
مریضِ جاں بلب ہو، لادوا ہو
خدا کا، عشق محبوبِ خدا کا
آپ کے عشق سے منسوب ہوا خوب ہوا
جو شخص محمد کا ثنا خوان رہے گا
بامِ احساس پہ چمکے شبِ دیدار کے دیپ
نکہتوں کے دوش پر ہے موجۂ گُلزارِ میم
درودوں کے سحابِ خیر سے تطہیرِ خُو کر کے
شگفتہ ہے گُلِ امکانِ رحمت
کیوں اپنا حال زار میں ان سے کہوں نہیں

اشتہارات