خسارہ بھی اگر ہو منفعت کہنا

خسارہ بھی اگر ہو منفعت کہنا

محبت کو کبھی آزار مت کہنا

 

کبھی آہٹ کو دستک جاننا دل کا

کبھی یوں ہی کسی پُرزے کو خط کہنا

 

تم اپنے سر کوئی الزام مت لینا

جُدائی پر تھے میرے دستخط کہنا

 

خطائیں ٹھیک ہیں اپنی جگہ لیکن

محبت میں غلط ہے معذرت کہنا

 

سنو! پہلے مجھے تسخیر کر لو تم

پھر اُس کے بعد اپنی سلطنت کہنا

 

ہمیشہ سچ کو سچ گرداننا اشعرؔ

جہاں دیکھو غلط ہوتا ، غلط کہنا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر مسافر ہے سہارے تیرے
اب یہاں سب کو محبت ھے، میاں
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا
میں غالبوں جیسا کبھی میروں کی طرح تھا
تجھ میں اور مجھ میں وہ اب رازو نیاز آئے کہاں؟
گرچہ کم کم تری تصویر نظر آتی ہے
درد کی اپنی ریت وچھوڑا
یار ! تُو میرے درد کو میری سخن وری نہ جان
تمہارے درد سے اپنے ملال سے خائف
حزنیہ ہے کہ طربیہ، جو ہے