خطا کار چوکھٹ پہ آئے ہوئے ہیں

خطا کار چوکھٹ پہ آئے ہوئے ہیں

جبینِ ندامت جھکائے ہوئے ہیں

 

زمینِ عرب کس قدر اوج پر ہے

جہاں آسماں سر جھکائے ہوئے ہیں

 

مدینے کی گلیوں کے پر نور منظر

مری دھڑکنوں میں سمائے ہوئے ہیں

 

کرم کیجئے اے رسولِ مکرم

بڑے رنج و غم کے ستائے ہوئے ہیں

 

نگاہوں میں دکھ اور کاندھے پہ اپنے

گناہوں کی گٹھڑی اٹھائے ہوئے ہیں

 

اُدھر اشک شوئی کی خو آپ کی ہے

اِدھر فرقتوں کے رلائے ہوئے ہیں

 

ترے جود و لطف و عنایت کے بادل

سرِ ہفت افلاک چھائے ہوئے ہیں

 

ترا نقشِ پا چوم لینے کی حسرت

ازل سے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں

 

کرم دو کریموں کا اشفاقؔ پر ہے

کہ عیب اس کے سارے چھپائے ہوئے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ