اردوئے معلیٰ

Search

خلقِ ارض و سما کی غایت ہے

وہ جو شہکارِ دستِ قدرت ہے

 

سیرتِ پاک، خیر کا معیار

صورتوں میں وہ ایک صورت ہے

 

قاسمِ ہر عطا، مرے آقا

اُن کے قبضے میں ساری نعمت ہے

 

سب شہنشاہ، تیرے در کے گدا

ساری دنیا تری ریاست ہے

 

اے سخی! پھر عطا کی بارش ہو

دل میں پھر خواہشوں کی کثرت ہے

 

اُس کا دشمن بھی مانتا ہے کہ وہ

صادق و صاحبِ امانت ہے

 

یہ سکھایا نہیں گیا مجھ کو

عشقِ احمد تو میری فطرت ہے

 

خاندانی غلام ہوں اُن کا

نعت کہنا مری وراثت ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ