اردوئے معلیٰ

Search

خمیر خاک کا پھر خاک پر لگا رہے گا

فرشتہ موت کا جب تاک پر لگا رہے گا

 

میں بے خیالی میں ماروں گی ہاتھ ٹیبل پر

اور ایک چشمہ مری ناک پر لگا رہے گا

 

نجانے ہاتھ لگے گا وہ پارسل کس کے

مرا تو دھیان مری ڈاک پر لگا رہے گا

 

ہزار کام تھے جو روشنی سے ہو جاتے

مگر وہ چاند تو ـ افلاک پر لگا رہے گا

 

صراحی توڑ کے دوڑیں گے کھیلتے بچے

وہ کوزہ گر کہ یونہی چاک پر لگا رہے گا

 

جسے قبول ہو تہمت مجھے قبول کرے

یہ داغ عشق کا پوشاک پر لگا رہے گا

 

تو میرا حق نہیں بنتا، جھگڑ کے سو جاؤں ؟

وہ پوری رات جو ٹک ٹاک پر لگا رہے گا

 

اسی کے نام کے حرفوں کا پیٹرن کومل

ہمیشہ فون کے ہر لاک پر لگا رہے گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ