اردوئے معلیٰ

 

خواب ہی میں رُخِ پُر نور دکھاتے جاتے

تیرگی میرے مقدر کی مٹاتے جاتے

 

ڈال کر ایک نظر روح کی پہنائی میں

اس خرابے کو سمن زار بناتے جاتے

 

غار کو چشمۂ انوار بنانے والے

افقِ دل سے بھی مہتاب اگاتے جاتے

 

کاش طیبہ میں سکونت کا شرف مل جاتا

دیکھتے روضۂ سرکار کو آتے جاتے

 

اُس خنک شہر کو جاتی ہوئی اے نرم ہوا

ساتھ لے جا مرے جذبات بھی جاتے جاتے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات