خود اپنے ہاتھ سے اپنا فسانہ لکھا ہے

خود اپنے ہاتھ سے اپنا فسانہ لکھا ہے

سو کیسے تَیروں جہاں ڈوب جانا لکھا ہے

 

حروف بھی ہیں لکیروں میں اور نقطے بھی

مری ہتھیلی پہ لفظِ خزانہ لکھا ہے

 

!مجھے یہ فخر ہے ، اے ساکنانِ عشقستان

کہ میں نے آپ کا قومی ترانہ لکھا ہے

 

!تری کہانی بدل دوں گا کاتبِ تقدیر

میں رو پڑوں گا جہاں مسکرانا لکھا ہے

 

کسی شریر نے مسجد کے داخلی در پہ

جلی حروف میں کیوں بادہ خانہ لکھا ہے؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ