خود اپنے ہاتھ سے اپنا فسانہ لکھا ہے

خود اپنے ہاتھ سے اپنا فسانہ لکھا ہے

سو کیسے تَیروں جہاں ڈوب جانا لکھا ہے

 

حروف بھی ہیں لکیروں میں اور نقطے بھی

مری ہتھیلی پہ لفظِ خزانہ لکھا ہے

 

!مجھے یہ فخر ہے ، اے ساکنانِ عشقستان

کہ میں نے آپ کا قومی ترانہ لکھا ہے

 

!تری کہانی بدل دوں گا کاتبِ تقدیر

میں رو پڑوں گا جہاں مسکرانا لکھا ہے

 

کسی شریر نے مسجد کے داخلی در پہ

جلی حروف میں کیوں بادہ خانہ لکھا ہے؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آگیا
اب یہاں سب کو محبت ھے، میاں
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا
میں غالبوں جیسا کبھی میروں کی طرح تھا
تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں
وصال رُت بھی اگر آئے ، کم نہیں ہوتے
اکڑتا پھرتا ہوں میں جو سارے جہاں کے آگے
دشت ِ قضاء میں خاک اُڑاتی حیات کی
صد چاک ہی دامان و گریبان بھلے ہیں
اب کہاں دستِ حنائی ہے کہ جو رنگ بھرے

اشتہارات