اردوئے معلیٰ

Search

خود فریبی کے نئے کچھ تو بہانے ڈھونڈیں

اُس کی الفت کے علاوہ بھی ٹھکانے ڈھونڈیں

 

گذری صدیوں کو گذارے چلے جائیں کب تک

چھوڑ کر ماضی چلو اور زمانے ڈھونڈیں

 

ہم کسی اور ہی اندازِ محبت کے ہیں لوگ

تازہ رشتوں میں بھی اقرار پرانے ڈھونڈیں

 

دل پہ مت لینا کہ لوگوں کی تو باتیں یوں ہیں

جیسے اُڑتے ہوئے کچھ تیر نشانے ڈھونڈیں

 

ڈار سے بچھڑے پرندوں کو نہیں معلوم اب

رزق ڈھونڈیں یا بسیرے کے ٹھکانے ڈھونڈیں

 

پھر کسی شام چلو یاد کے جنگل میں ظہیرؔ

ہم نے جو دفن کئے تھے وہ خزانے ڈھونڈیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ