اردوئے معلیٰ

خود کو ہم آپ بھی یہ روگ لگانے لگ جائیں

جو ملے ہنس کے اُسے دل میں بسانے لگ جائیں

 

کیا ستمگار ہیں جو مہر و محبت کے چراغ

خود ہی روشن بھی کریں خود ہی بجھانے لگ جائیں

 

یہ سمجھ لو کہ غمِ ہجر کا موسم ہے قریب

لوگ جب تم سے بہت پیار جتانے لگ جائیں

 

کوئی دو چار قدم بھی جو چلے ساتھ اپنے

ہم تو اتنا سا تعلق بھی نبھانے لگ جائیں

 

کوئی رسماََ ہی اگر پُرسشِ احوال کرے

ہم وہ خوش فہم اُسے تفصیل بتانے لگ جائیں

 

جس کو بھی زمیں بوس ہو کرنا مطلوب

اُس کو یہ لوگ بلندی پہ اُڑانے لگ جائیں

 

تم کسی روز اُسے ایک جھلک دکھلا دو

میرے ناصح کے ذرا ہوش ٹھکانے لگ جائیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات