اردوئے معلیٰ

خوشا کہ پھر حرمِ پاک تک رسائی ہے

خوشا کہ پھر حرمِ پاک تک رسائی ہے

مجھے یہاں مری تقدیر کھینچ لائی ہے

 

حرم میں وحدتِ فکر و عمل نظر آئی

محبتوں کی تجلی فضا پہ چھائی ہے

 

یہاں لباس بھی یکساں، عمل بھی ہے یکساں

تونگری نے گدائی کی چھب دکھائی ہے

 

بفضلِ ربِّ غفور، اُمتِ رسولِ کریم

حرم میں نقطۂ وحدت پہ لوٹ آئی ہے

 

طوافِ کعبہ میں تمیزِ رنگ و نسل نہیں

ہر اک زبان پہ اللہ کی بڑائی ہے

 

یہاں ہیں شیر و شکر ہر دیار کے مسلم

کشش حرم کی سبھی کو قریب لائی ہے

 

ہر ایک ہاتھ میں کشکول ہے گدائی کا

غنی ہے ربِّ کریم، اُس کی کبریائی ہے

 

کریم رب! یہی رنگت ہو دائمی اب تو

جو اس فضا میں صفِ مومناں پہ چھائی ہے

 

حدودِ کعبہ سے باہر بھی کاش دیکھ سکوں

وہ خواجگی جو طوافِ حرم میں پائی ہے

 

ہر اِک قبیلے ہر اِک نسل میں نظر آئی

جو روشنی دل و روح و نظر پہ چھائی ہے

 

الٰہی تا بہ ابد، اب یونہی رہے روشن

جو شمع حُبِّ حرم کی یہاں جلائی ہے

 

تجلّیات سے دامن بھرو عزیزؔ احسن!

یہیں تو ربِّ محمد کی رونمائی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ