اردوئے معلیٰ

خوشبو جہاں پھولوں کی مہکتی رہی نشترؔ

خوشبو جہاں پھولوں کی مہکتی رہی نشترؔ

ہر سمت وہاں آج بارود کی بو ہے

سڑکوں پہ جو بہتا ہے یہی رنگِ حنائی

یہ رنگ نہیں میرے ہی اپنوں کا لہو ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ