اردوئے معلیٰ

Search

خوش نصیبی! ترا آستاں مل گیا

اس کڑی دھوپ میں سائباں مل گیا

 

تیری سیرت رہی جس کے پیشِ نظر

اس کو منزل کا روشن نشاں مل گیا

 

خوش مُقدّر ہیں وہ سب کبوتر جنہیں

گنبدِ سبز پر آشیاں مل گیا

 

کشتیٔ نوحؑ جس کو نبی نے کہا

بے سہاروں کو وہ خانداں مل گیا

 

خوش نصیبی کہ اذنِ حضوری ملا

ہوں زمیں پر، مجھے آسماں مل گیا

 

ہے سراپا تشکّر جلیلِ حزیں

سایۂ رحمتِ دو جہاں مل گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ