دامنِ طلب لے کر آقا ہم کدھر جائیں

دامنِ طلب لے کر آقا ہم کدھر جائیں

اک نظر کرم کی ہو تا کہ ہم سنور جائیں

 

آرزو، دیا بن کر دل میں ایک روشن ہے

ہم درود کا تحفہ لے کر ان کے در جائیں

 

آپ کا تصور یوں آیا ہے میرے دل میں

جیسے نور کی کرنیں چار سو بکھر جائیں

 

ہم سے تیرہ بختوں کا ایک ہی ٹھکانہ ہے

تیرگی مٹانے کو مصطفے کے در جائیں

 

جاگزیں ہے دل میں آرزو ہمارے بھی

خاک بن کے آقا کی راہ میں بکھر جائیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ