درودوں کا وظیفہ لمحہ لمحہ دم بدم رکھیں

درودوں کا وظیفہ لمحہ لمحہ دم بدم رکھیں

درِ سرکارؐ پر ہر پل سرِ تسلیم خم رکھیں

 

رہے مرکز خیال و فکر کا بس گنبدِ خضریٰ

نظر کے سامنے ہر دم وہ تابندہ حرم رکھیں

 

دل و جاں مضطرب ہیں، دید کو آنکھیں ترستی ہیں

مجھے عز و شرف بخشیں، مرے دل میں قدم رکھیں

 

رُخِ انور کا جن عشاق کو دیدار ہو جائے

تو پھر وہ غیر کی جانب نہ تکنے کی قسم رکھیں

 

مری سرکارؐ جو ہیں آپؐ کے شاعر حضورؐ ان کا

فزوں تر عشق و سرمستی، فزوں زورِ قلم رکھیں

 

فضاؤں میں بھی لہرائیں وہی اسلام کے پرچم

مجاہد سر بکف ہی دین کا اونچا علم رکھیں

 

ظفرؔ بھی آپؐ کے در کا گداگر ہے، سگِ در ہے

نگاہِ ملتفت آقاؐ، سگِ در کا بھرم رکھیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حقیقت میں تو اس دنیا کی جو یہ شان و شوکت ہے
نبی کی نعت پڑھتا ہوں کہ ہے یہ دل کشی میری
ذاتِ والا پہ بار بار درود
نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے
جلالِ کبریا پیشِ نظر ہے
خدایا! نعت لکھنے کا شعور و آگہی دے دے
کوئے محبوبؐ کی گدائی ملے
صاحبِ حُسن و جمالؐ! آیا ہوں
زینتِ قرآں ہے یہ ارشادِ ربُّ العالمیں
مرا خدا رؤف ہے، مرا خدا رحیم ہے