اردوئے معلیٰ

Search

درود چشم اور گوش پر کبھی صبا سے سن

سلام زلف اور گال پر کبھی خدا سے سن

 

درود آل پر بلال پڑھ گئے ہیں جس طرح

سلام اس غلام کا ہے آل پر ہوا سے سن

 

درود مصطفٰی کی ہر پلک کی ہر جھپک پہ ہے

سلام ان کی ریش پر ہوا کا سن فضا سے سن

 

درود پڑھ کے مصطفٰی سے ہر گھڑی کلام کر

سلام کے جواب کی صدائیں مصطفٰی سے سن

 

درود سے دعا کی ابتدا و انتہا بھی کر

سلام اکتساب کر کے فیصلہ ادا سے سن

 

درود کا نصاب لکھ جہانِ دل کی صوت پر

سلام انتساب کر کے رفعتیں خدا سے سن

 

درود سے زمین کو سجا کے تو دوام دے

سلام کی ہو بزم تو ادب سے سن حیا سے سن

 

درود پر ہے گام زن ،فلک فلک ،زمیں زمیں

سلام پر لگی ہوئی کرن کا سن ضیا سے سن

 

درود سے ہے فصلِ گل پہ بارشوں کا سلسلہ

سلام پر لگی ہوئی گھٹا کی ہر ادا سے سن

 

درود پڑھ ،سلام کر، یہ ہر مرض کی ہے دوا

سلام کے جواب سے ملی ہے جو شفا سے سن

 

درود سن بہ قائمِ حواس ہر نماز میں

سلام ہر فقیر اور صاحبِ قبا سے سن

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ