درِ مصطفیٰؐ کا گدا ہوں میں، درِ مصطفیٰؐ پہ صدا کروں

درِ مصطفیٰؐ کا گدا ہوں میں، درِ مصطفیٰؐ پہ صدا کروں

شب و روز شام و سحر سدا، در ِمصطفیٰؐ کی دُعا کروں

 

مرے آنسؤوں میں چھپے ہوئے ہیں سجود کب سے رُکے ہوئے

مجھے حکم دو دمِ حاضری ترےؐ سنگِ در پہ ادا کروں

 

یہ جو درد ہے ترےؐ ہجر کا کڑا امتحاں مرے صبر کا

یہی درد ہے مری زندگی اسے کیسے دل سے جدا کروں

 

مرے چارہ گر، مرے راز داں، مرے رنج و غم کی کہانیاں

مجھے یہ گوارا نہیں کہ میں کسی دوسرے سے کہا کروں

 

تیریؐ یاد ہو مری ہمنشیں رگِ جان میں رہے جا گزیں

جو بچی ہیں ساعتیں عمر کی، تریؐ یاد ہی میں رہا کروں

 

درِ مصطفیٰؐ کا گدا ہوں میں درِ مصطفیٰؐ پہ پڑا ہوں میں

مجھے مل رہا ہے بنا طلب ، مجھے کیا پڑی کہ صدا کروں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حسرتِ دیدۂ نم، قلبِ تپاں سے آگے
ذی کرم ذی عطا آج کی رات ہے
چوم آئی ہے ثنا جُھوم کے بابِ توفیق
رسول پاک کے جتنے بھی ماہ پارے ہیں
جذبوں کی حرف گہ کو ذرا مُعتبر کریں
دل اماں پائے گا کیونکر باغِ جنت چھوڑ کر
وہ حسنِ مکمل، پیکرِ الفت، خلقِ مجسم کیا کہئے
نعت کے پھول جو ہونٹوں پہ سجا دیتے ہیں
بقدرِ فہم کرتے ہیں ثنا جتنی بھی ہو ہم سے
خدا کے فضل کے ہر دم حصار میں رہنا

اشتہارات