در سرکار پہ جانے میں مزہ آتا ہے

در سرکار پہ جانے میں مزہ آتا ہے

حال رو رو کے سنانے میں مزہ آتا ہے

 

صاحبِ گنبد خضریٰ کی توجہ کے طفیل

آسمانوں کو جھکانے میں مزہ آتا ہے

 

قمقمے گھر کے در و بام پہ روشن کرکے

بزم سرکار سجانے میں مزہ آتا ہے

 

ڈھونڈتے رہتے ہیں جو ذکرِ نبی کی محفل

ان فرشتوں کو بلانے میں مزہ آتا ہے

 

جب برستا ہے ترا ابرِ کرم میرے نبی

اس گھڑی خوب نہانے میں مزہ آتا ہے

 

جس کو کہتے ہیں غبار درِ سلطانِ امم

تاج وہ سر پہ سجانے میں مزہ آتا ہے

 

نقش پائے شہ کونین کی باتیں کر کے

فکر کو راہ پہ لانے میں مزہ آتا ہے

 

اسوۂ رحمت عالم کا سہارا لے کر

رونے والوں کو ہنسانے میں مزہ آتا ہے

 

واسطہ سرور کونین کا دے کر مجھ کو

روٹھی قسمت کو منانے میں مزہ آتا ہے

 

ناصبیت کے مکاں اس سے لرز جاتے ہیں

حیدری نعرہ لگانے میں مزہ آتا ہے

 

ہر گھڑی شام و سحر ذکرِ شہ کون و مکاں

نورؔ کو سننے سنانے میں مزہ آتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ