دستِ طرفہ کارِ فطرت نے سمو دی طرفگی

دستِ طرفہ کارِ فطرت نے سمو دی طرفگی

از ہمہ پہلو ہے دلکش ذاتِ پاکِ آں نبیؐ

 

اب نہیں کوئی نبی بعد از رسولِ ہاشمیؐ

تا قیامت اب تو لازم ہے اسی کی پیروی

 

منبعِ نورِ بصیرت چشمۂ ہر آگہی

آپؐ پر نازل ہوئی ہے جو کتابِ آخری

 

تذکرہ اس کا نہیں محدود روئے ارض تک

آسمانوں پر فرشتوں میں بھی ہے ذکرِ نبیؐ

 

پیکرِ رعنا پہ اس کے حسنِ دو عالم نثار

اس کے اوصافِ حمیدہ پر ہے دنیا حیرتی

 

وحیِ ربّانی پہ مبنی اس کا ہر حرفِ سخن

دل کے اندر گھر کرے جو بات بھی اس نے کہی

 

زندگی کی راہ چلنا اب نہیں دشوار کچھ

ہر جگہ اس کی بدولت روشنی ہی روشنی

 

کیوں نہ بھیجیں روز و شب اپنے نبیؐ پر ہم درود

اپنی دنیا بھی وہی ہے اپنا عقبیٰ بھی وہی

 

آدمی کی عاقبت لاریب بن جائے نظرؔ

پیروی ختم الرسلؐ کی کر کے دیکھے تو سہی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

قربتِ یزداں کس کو ملی ہے اے شہِ شاہاں تم سے زیادہ
مدحت سرا ہوں تا خلشِ غم ہو جاں سے دور
خالی اس آستاں سے نہ دریوزہ گر پھرے
آج پروازِ تخیل سوئے آں دلدار ہے
طلسمِ شامِ خزاں نہ ٹوٹے گا دل کو یہ اعتبار سا ہے
گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
غم دور ہو گئے نہ ستم دور ہو گئے
اللہ، اللہ کے نبی سے
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
تصور میں مدینہ آ گیا ہے