اردوئے معلیٰ

دشتِ فراق میں ہے دلوں میں عجب کسک

دشتِ فراق میں ہے دلوں میں عجب کسک

لیکن مشامِ جاں میں بسی ہے وہی مہک

دل کی کسک کو جان سکیں گے کہاں ملک

اے کاش پھیل جائے اجالا یہ روح تک

دل میں بسی ہوئی ہے محبت رسول کی

لازم ہے برملا ہو اطاعت رسول کی

ایماں کا نور لفظوں میں کافی نہیں جناب

ہر حرف کا ہو روح کے ایوان سے خطاب

شفاف ہونی چاہیے کردار کی کتاب

کافی نہیں دکھاوے کو آقا سے انتساب

ان کی ہر اک ادا کو عمل میں بھی ڈھالیے

تعلیم ان کی جانیے خود کو سنبھالیے

اللہ پر یقین ہو کامل بہر زماں

باطل کے حق میں کُھلنے نہ پائے کوئی زباں

 

سچائیاں ہوں دینِ محمد کی یوں عیاں

طاغوت ہر دیار میں ہو جائے نیم جاں

سکَّہ چلے زمانے میں واحد الہٰ کا

انسان ہو مطیع رسالت پناہ کا

سارا وجود دین کے سانچے میں ڈھل سکے

روحوں سے بے یقینی کا کانٹا نکل سکے

مشکل گھڑی زوال کی اے کاش ٹل سکے

رنگِ ملال کاش خوشی میں بدل سکے

روحوں سے بے یقینی کے کانٹے نکال دو

ہر قلب کو یقین کے سانچے میں ڈھال دو

سچائیوں کی چاہ کی توفیق بھی ملے

ہر ایک قلب میں گلِ اُمید اب کھلے

ہر زخم سوزنِ نگہِ لطف سے سِلے

ہو جائیں دور عہدِ تجاہل کے سب گِلے

عزم و عمل کا رنگ چڑھے خاص و عام پر

شاداں ہوں سب اُخوَّتِ مسلم کو دیکھ کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ