اردوئے معلیٰ

دشتِ ویران میں آوازِ جرس باقی ہے

دل کو پھر آگ لگاؤ کہ یہ خس باقی ہے

 

کون سا وصل کرے آ کے مداوا، کہ یہاں

جس کو پایا تھا ابھی اس کی ہوس باقی ہے

 

اس قدر کھل کے عنایات کہ کیا ہی کہنے

مرگ سیراب ہوئی ہجر میں رس باقی ہے

 

تم عبث دل میں پریشان ہوئے جاتے ہو

کوئی توجیہہ نہیں درد کی بس باقی ہے

 

عشقِ پامال ، ابھیی جسم سلامت ٹھہرے

اک قفس ٹوٹ چکا ، ایک قفس باقی ہے

 

آ، ترے نام پہ یہ سانس بھی واری جائے

خشک ہونٹوں پہ ابھی ایک نفس باقی ہے

 

تیرا ناصر جو کبھی سالِ گزشتہ میں تھا

اس کی تصویر فقط اب کے برس باقی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات