اردوئے معلیٰ

دعاؤں اور عطاؤں میں رابطہ تو ہے

خدا و بندے کے مابین واسطہ تو ہے

 

خیال و فکر میں حرفِ نمود تیرا وجود

جہانِ فہم و فراست کا ضابطہ تو ہے

 

دراز شب میں نویدِ سحر تری مِدحت

خزاں رُتوں میں گلابوں کا تذکرہ تو ہے

 

عرُوسِ عصر کے چہرے پہ تیرے اسم کا نور

نگارِ وقت کی زُلفوں کا سلسلہ تو ہے

 

بِکھر چکے تھے سبھی دشتِ دہر میں نغمے

جو تھا، جو ہے، جو رہے گا وہ زمزمہ تو ہے

 

خیالِ رفتہ کی صورت تھی یہ حیات و ممات

کِتابِ زیست کا تابندہ واقعہ تو ہے

 

جہانِ فکر میں مقصودؔ کے نہ تھا کچھ بھی

اُتر چلا ہے جو نعتوں کا قافلہ تو ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات